ذرے ذرے سے عیاں ہے تیری قدرت کا بیاں

حمدِ باری تعالیٰ

ذرے ذرے سے عیاں ہے تیری قدرت کا بیاں
تو ہی مالک، تو ہی خالق، تو ہی ربِ دو جہاں
تیری بخشش کی نہیں ہے کوئی حد اے میرے رب
بندہ پرور تو ہی ہے اور تو ہی ہے سب کا اماں
گلستاں میں رنگ و بو بھی تیری صنعت کا ظہور
تیرے قبضے میں زمین اور تیرے بس میں آسماں
تیرے آگے سر جھکایا، تجھ سے مانگی ہے مدد
تیرے در کے ماسوا اب جائیں ہم سب اور کہاں
جس کی سانسوں میں بسا ہو تیرا ذِکرِ دلنشیں
پائے گا وہ دو جہاں میں راحتوں کا سائباں
تیری رحمت کا طلب گار اب یہ تیرا ہے اَسدؔ
اپنے فضلِ خاص سے تُو کر دے اس پر مہرباں

جامع ادبی و فکری تشریح

۱۔ فنی و کائناتی مظاہر: اس حمد میں شاعر محمد اسدؔ علی نے کائنات کے ذرے ذرے کو اللہ کی پہچان کا آئینہ قرار دیا ہے۔ مطلع میں "ذرہ" (جو کہ صغیر ترین اکائی ہے) اور "دو جہاں" (جو کہ کائنات کی وسعت ہے) کے درمیان ربط پیدا کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ قدرتِ الٰہی ہر مقام پر یکساں کامل ہے۔ اللہ کو مالک، خالق اور رب تسلیم کرنا دراصل اس کی حاکمیتِ مطلق کا اعتراف ہے۔

۲۔ صفاتِ الٰہی اور بندہ پروری: حمد کا دوسرا شعر اللہ کی بے پناہ بخشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لفظ "اماں" کا استعمال نہایت بلیغ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی تمام پریشانیوں اور مصائب سے بچنے کے لیے اللہ کا در ہی واحد محفوظ پناہ گاہ ہے۔ "بندہ پرور" کی صفت یہ بتاتی ہے کہ وہ خالق نہ صرف پالنے والا ہے بلکہ اپنے بندوں کی خطاؤں پر پردہ ڈال کر ان پر نوازشات بھی کرتا ہے۔

۳۔ صنعتِ الٰہی کا شاہکار: گلستان کے "رنگ و بو" کو اللہ کی صنعت (کاریگری) قرار دینا اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ کائنات کا حسن اتفاقی نہیں بلکہ ایک قادرِ مطلق کی تخلیق ہے۔ زمین و آسمان پر اللہ کے قبضے اور بس کا تذکرہ اس کی مکمل حاکمیت کو بیان کرتا ہے۔ "تیرے در کے ماسوا" پکارنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مومن کا توکل صرف ایک ہی در پر ہونا چاہیے۔

۴۔ ذکرِ الٰہی اور حاصلِ دعا: شاعر کے نزدیک وہ شخص خوش نصیب ہے جس کی سانسیں "ذکرِ دلنشیں" سے معطر ہوں۔ یادِ الٰہی میں بسر ہونے والی زندگی کے لیے اللہ کی رحمت کا "سائباں" دونوں جہانوں میں سکون کا باعث بنتا ہے۔ مقطع میں اَسدؔؔ صاحب نے کمالِ عاجزی سے اللہ کے "فضلِ خاص" کی التجا کی ہے، جو کہ بندے کی بندگی کا منتہائے مقصود ہے۔

از قلم: محمد اسدؔ علی

Kulliyat-e-Asad | Kot Momin Poetry

تبصرے